Ibn e Insha ki Shayari – Desinged Urdu Ghazal


Ibn-e-Insha (Urdu: ابن انشاء) was an eminent Pakistani Urdu poet, humorist, Travelogue writer and Columnist. Along with his poetry, he was regarded one of the best humorists of Urdu. His poetry has a distinctive diction laced with language reminiscent of Amir Khusro in its use of words and construction that is usually heard in the more earthy dialects of the Hindi-Urdu complex of languages, and his forms and poetic style is an influence on generations of young poets.

He was born on June 15, 1927 as Sher Muhammad Khan (Urdu: شیر محمد خان) in Phillaur tehsil of Jalandhar District, Punjab, India. His father hailed from Rajasthan. He did B.A. from Punjab University in 1946 and M.A. from University of Karachi in 1953. He was associated with various governmental services including Radio Pakistan, Ministry of Culture and National Book Centre of Pakistan. He also served UN for some time and this enabled him to visit a lot of places and was the reason of his subsequent travelogues. Some of the places that he visited includes Japan, Philippines, China, Hong Kong, Thailand, Indonesia, Malaysia, India, Afganistan, Iran, Turkey, France, UK and US. Insha got the mentors like, Habibullah Ghazanfer Amrohvi, Dr. Ghulam Mustafa Khan and Dr. Abdul Qayyum. Insha spent much of his time in Karachi. He died of Hodgkin’s Lymphoma on January 11, 1978 in London and was buried in Karachi


80 تبصرے

  1. Anaya said,

    جون 2, 2012 at 3:33 شام

    وہ دکھ جو تو نے دئیے مجھے رکھے ہیں سب سنبھال کے
    دو دن کی بات نہیں ہے یہ‘ یہ سلسلے ہیں مہ وسال کے

  2. Anaya said,

    جون 2, 2012 at 3:28 شام

    اب تو سب دشنہ و خنجر کی زباں بولتے ہیں
    اب کہاں لوگ محبت کے نصابوں والے

  3. Anaya said,

    جون 2, 2012 at 3:26 شام

    وصال و ہجر سے وابستہ تہمتیں بھی گئیں
    وہ فاصلے بھی گئے ، اب وہ قربتیں بھی گئیں

    دلوں کا حال تو یہ ہے کہ ربط ہے نہ گریز
    محبتیں تو گئی تھیں ، عداوتیں بھی گئیں

    لُبھا لیا ہے بہت دل کو رسم دنیا نے
    ستم گروں سے ستم کی شکایتیں بھی گئیں

    غرور کج کلہی جن کے دم سے قائم تھا
    وہ جراتیں بھی گئیں ، وہ جسارتیں بھی گئیں

    نہ اب وہ شدت آوارگی نہ وحشت دل
    ہمارے نام کی کچھ اور شہرتیں بھی گئیں

    دل تباہ تھا بے نام حسرتوں کا دیار
    سو اب تو دل سے وہ بے نام حسرتیں بھی گئیں

    ہوئے ہیں جب سے برہنہ ضرورتوں کے بدن
    خیال و خواب کی پنہاں نزاکتیں بھی گئیں

    ہجوم سرو و سمن ہے نہ سیل نکہت و رنگ
    وہ قامتیں بھی گئیں ، وہ قیامتیں بھی گئیں

    بھلا دیے غم دنیا نے عشق کے آداب
    کسی کے ناز اٹھانے کی فرصتیں بھی گئیں

    کرے گا کون متاع خلوص یوں ارزاں
    ہمارے ساتھ ہماری سخاوتیں بھی گئیں

    نہ چاند میں ہے وہ چہرہ ، نہ سرو میں ہے وہ جسم
    گیا وہ شخص تو اس کی شباہتیں بھی گئیں

    گیا وہ دور غم انتظار یار سحر
    اور اپنی ذات پہ دانستہ زحمتیں بھی گئیں

  4. Anaya said,

    جون 2, 2012 at 3:15 شام

    اسے اپنے فردا کی فکر تھی وہ جو میرا واقف حال تھا
    وہ جو اسکی صبح عروج تھی وہی میرا وقت زوال تھا

    میرا درد کیسے وہ جانتا میری بات کیسے وہ مانتا
    وہ تو خود فنا کے سفر پہ تھا اسے روکنا بھی محال تھا

    کہاں*جائو کے مجھے چھوڑ کے میں*یہ پوچھ پچھ کر تھک گیا
    وہ جواب بھی نہ دے سکا وہ تو خود سراپا سوال تھا

    وہ جو اسکے سامنے آگیا وہی روشنی میں*نہا گیا
    عجب اسکا ہیبت حسن تھا عجب اسکا رنگ جمال تھا

    دم واپسی یہ کیا ہوا نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی
    وہ ستارہ کیسے بجھ گیا جو اپنی مثال آپ تھا

    وہ ملا تو صدیوں*بعد بھی میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
    اسے میری چپ نے رلا دیا جسے گفتگو میں*کمال تھا

    مجھ سے ملکر وہ رو لیا مجھے فقط وہ اتنا کہہ سکا
    جسے جانتا تھا میں*زندگی وہ تو صرف وہم و خیال تھا

  5. Anaya said,

    مئی 30, 2012 at 7:30 صبح

    درخت سوکھ گئے رُک گئے ندی نالے
    درخت سوکھ گئے رُک گئے ندی نالے
    یہ کس نگر کو روانہ ہوئے نگر والے

    کہانیاں جو سنتے تھے عہدِ رفتہ کی
    نشاں وہ گردشِ ایّام نے مٹا ڈالے

    میں شہر شہر پھرا ہوں اسی تمّنا میں
    کسی کو اپنا کہوں کوئی مجھ کو اپنا لے

    کچھ اور تجھ پہ کھلیں گی حقیقتیں جالب
    جو ہو سکے تو کسی کا فریب بھی کھا لے

    حبیب جالب

  6. Anaya said,

    مئی 30, 2012 at 7:17 صبح

    آج کے دور میں ہر انسان کو اپنے مفاد اور غرض کی پڑی ہوئی ہے۔ ہر شخص پیدائشی طور ہر خود غرض یا بے حس نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں انسان بے حس جب ہوتا ہے جب وہ غرور و تکبر کا شکار ہو جاتا ہے۔ آپ سب بھی اس بارے میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔

  7. Anaya said,

    مئی 30, 2012 at 7:15 صبح

    زندگی وقت کے ساتھ چلنے کا نام ہے۔ جب ہم وقت کے دھارے کے ساتھ چلتے رہتے ہیں تو مطمعن و خوش و خرم رہتے ہیں اور اگر کسی وجہ سے وقت کی رفتار و سمت سے ہٹ جائیں تو ہم غیر مطمعن اور اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں، پھر ہماری کوشش ہوتی ہے کہ کسی طورپر، کچھ کرکے اور کسی بھی راستہ سے اپنے مقام پر واپس لوٹتے ہیں یا کم سے کم اس کے لیے کوششاں ہوجاتے ہیں۔ جب کسی بھی وجہ سے ہم اپنے مقام پر پہنچنے کے قابل نہیں رہتے تو اسے موت کا نام دیا جاتا ہے۔
    یہ ساری کشمکش ہی تو زندگی ہے
    ایک اطالوی نظم:
    اے میرے بچے
    زندگی کرسٹل کی سیڑھیاں تو نہیں
    یہ تو بہت سخت ہے
    مانند لوہے کی میز کے
    مانند بغیر قالین کے فرش کے
    مگر اے میرے بچے
    تو نے رکنا نہیں
    کہ رکنا زیادہ اذیت ناک ہوگا
    تجھے آگے بڑھنا ہے
    تجھے زندہ رہنا ہے

  8. Anaya said,

    مئی 29, 2012 at 7:28 صبح

    نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں
    چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

    کسے لگائے گلے اور کہاں کہاں ٹھہرے
    ہزار غنچہ و گل ہیں صبا کے رستے میں

    خدا کا نام کوئی لے تو چونک اُٹھتے ہیں
    ملے ہیں ہم کو وہ رہبر خدا کے رستے میں

    کہیں سلاسلِ تسبیح اور کہیں زنار
    بچھے ہیں دام بہت مدعا کے رستے میں

    ابھی وہ منزلِ فکر و نظر کہاں آئی
    ہے آدمی ابھی جرم و سزا کے رستے میں

    ہیں آج بھِی وہی دار و رسن وہی زنداں
    ہر اک نگاہِ رموز آشنا کے رستے میں

    یہ نفرتوں کی فصیلیں جہالتوں کے حصار
    نہ رہ سکیں گے ہماری صدا کے رستے میں

    مٹا سکے نہ کوئی سیلِ انقلاب جنہیں
    وہ نقش چھوڑے ہیں ہم نے وفا کے رستے میں

    زمانہ ایک سا جالب سدا نہیں رہتا
    چلیں گے ہم بھی کبھی سر اُٹھا کے رستے میں۔

  9. Anaya said,

    مئی 29, 2012 at 7:16 صبح

    ہم جو پہنچے سرِ مقتل تو یہ منظر دیکھا
    سب سے اُونچا تھا جو سَر‘ نوکِ سناں پر دیکھا

  10. Anaya said,

    مئی 29, 2012 at 7:14 صبح

    ہم سے مت پوچھ کہ کب چاند اُبھرتا ہے یہاں؟
    ہم نے سُورج بھی ترے شہر میں آکر دیکھا

    پیاس یاروں کو اب اُس موڑ پہ لے آئی ہے
    ریت چمکی تو یہ سمجھے کہ سمندر دیکھا

    ایسے لپٹے ہیں دروبام سے اب کے جیسے
    حادثوں نے بڑی مدّت میں مرا گھر دیکھا

    زندگی بھر نہ ہُوا ختم قیامت کا عذاب
    ہم نے ہر سانس میں برپا نیا محشر دیکھا

    اِتنا بے حِس کہ پگھلتا ہی نہ تھا باتوں سے
    آدمی تھا کہ تراشا ہُوا ّپتھر دیکھا

    دُکھ ہی ایسا تھا کہ رویا ترا محسن ورنہ
    غم چھپا کر اُسے ہنستے ہُوئے اکثر دیکھا

  11. Anaya said,

    مئی 29, 2012 at 7:09 صبح

    تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ھوں میں
    تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ھوں میں
    جینے کے لیئے سوچا ہی نہیں ، درد سنبھالنے ھونگے
    مسکرائیں تو مسکرانے کے قرض اتارنے ھونگے
    مسکراؤں کبھی تو لگتا ھے
    جیسے ہونٹوں پہ قرض رکھا ھے

    تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ھوں میں
    تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ھوں میں
    زندگی تیرے غم نے ہمیں رشتے نئے سمجھائے
    ملے جو ہمیں دھوپ میں ملے چھاؤں کے ٹھنڈے سائے

    تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ھوں میں
    تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ھوں میں
    آج اگر بھر آئی ھے بوندیں برس جائینگی
    کل کیا پتا ان کے لیئے آنکھیں ترس جائینگی
    جانے کب گم ھوا کہاں کھویا
    ایک آنسو چپا کے رکھا تھا

    تجھ سے ناراض نہیں زندگی، حیران ھوں میں
    تیرے معصوم سوالوں سے پریشاں ھوں میں

  12. Anaya said,

    مئی 29, 2012 at 7:03 صبح

    تری راہوں پہ چلنے سے، جگر کا خون کرنے سے
    زمانے نے بہت روکا دلِ وحشی نہیں سمجھا

    یہ کج بحثی کے جو قصے مری نسبت ہیں ، جھوٹے ہیں
    مرا قاتل گواہ میں نے گناہ تک بھی نہیں پوچھا

    اجر صبرِ مسلسل کا یہ آنسو کیوں ڈبودے گا؟
    نہیں نکلا جو صدیوں سے تو کیا اب بھی نہیں بہتا؟

    سخن ور ایک لمحہ لفظوں کا جادو جگاتا ہے
    مگر مجھ کو شکایت ہے، مرے دل کی نہیں کہتا

  13. Anaya said,

    مئی 29, 2012 at 7:00 صبح

    مجھے منظورہے مسکن، مگر بستی نہیں صحرا
    کہ دنیا کے جھمیلوں پر، یہ دل راضی نہیں ہوتا

    وہ کب تک روٹھتا رہتا اُسے کب تک مناتے ہم؟
    اُسے اِس بار جانا تھا تو ہم نے بھی نہیں روکا

    ہاں سازِ دل شکستہ ہے، مگر یہ بھی غنیمت ہے
    سُنا ہے خوابِ جاں ٹوٹے تو کچھ باقی نہیں رہتا

  14. شائستہ said,

    مئی 28, 2012 at 6:49 شام

    محبت کی طبیعت میں اگرچہ غم نہیں ہوتا

    مگر خدشہ جدائی کا غموں سے کم نہیں ہوتا

  15. شائستہ said,

    مئی 28, 2012 at 6:45 شام

    جو ذرا کسی نے چھیڑا تو چھلک پڑینگے آنسو

    کوئی مجھ سے یہ نہ پوچھے میرا دل اداس کیوں ہے

  16. شائستہ said,

    مئی 5, 2012 at 7:55 شام

    Isq ki raah m chalny waly tum hi ik tanha to nahn
    hum bhi uthai chahat ka parcham aawara phirty hain”

  17. شائستہ said,

    مئی 5, 2012 at 10:31 صبح

    Sath sath waqt kay

    Chahatein badalti hain

    Jane kitni khuwashain

    Hasraton main dhalti hain

    Din jane kan kata

    Jane kab dhali wo shab

    Chahaton ki khuwahish pay

    Jane kab pari thi baraf

    Jane sare walwalay

    Kaise bhaap ho gaye

    Mere sare khuwab kion

    Abdi neend so gaye

    Ghulab jo hansi k thay

    Ansoon main dhal gaye

    Jab teri nigah k

    zaaviey bdal gaye….

  18. مئی 4, 2012 at 9:04 شام

    Salam

    Kahin Tum Apni Kismat Ka Likha Tabdeel Kar Letay
    Tou Shayed Hum Bhi Apna Raasta Tabdeel Kar Letay*

    Agar Hum Waqyee Kam Hosla Hotay Mohabbat Main
    Marz Barhnay Say Pehlay He Dawa Tabdeel Kar Letay

    Tumharay Saath Chalnay Par Jo DIL Raazi Nahin Hota
    Bohat Pehlay Hum Apna Faisla Tabdeel Kar Letay

    Tumhein Inn Mosamon Ki Kiya Khabar Milti Agar Hum Bhi
    Ghutan K Khauf Say Ab-o-Hawa Tabdeel Kar Letay

    Tumhari Tarah Jeenay Ka Hunnar Aata Tuo Phir Shayed
    Makaan Apna Wohi rakhtay Pata Tabdeel Kar Letay

    Wohi Kirdaar Hain Taza Kahani Main Jo Pehlay Bhi
    kabhi Chehra Kabhi Apni Qaba Tabdeel Kar Letay

    Juddai Bhi Na HotiZindagi Bhi Sohel Ho Jaati
    Jo Hum Ek Doosre Say Masla Tabdeel Kar Letay

    Hamesha Ki Tarah Iss Baar Bhi Hum Bol Uthay Warna
    Gawahi Denay Wale Waqeya Tabdeel Kar Letay

  19. شائستہ said,

    مئی 4, 2012 at 7:31 شام

    اجنبی شھر کے اجنبی راستے میری تنہائی پر مشکراتے رھے
    میں بہت دیر تک یونہی چلتا رھا، تم بہت دیر تک یاد آتے رھے

    زخم جب بھی کوئی ذھن و دل پر لگا زندگی کی طرف اک دریچہ کھلا
    ھم بھی گویا کسی ساز کے تار ہیں چوٹ کھاتے رھے گنگناتے رھے

    زھر ملتا رھا زھر پیتے رھے روز جیتے رھے روز مرتے رھے
    زندگی بھی ہمیں آزماتی رھی اور ھم بھی اسے آزماتے رھے

    سخت حالات کے تیز طوفان میں گھر گیا تھا ھمارا جنوں وفا
    ھم چراغ تمنا جلاتے رھے وہ چراغ تمنا بجھاتے رھے

    کل کچھ ایسا ھوا میں بہت تھک گیا اس لیے سن کے بھی ان سنی کر گیا
    کتنی یادوں کے بھٹکے ھوئے کارواں دل کے زخموں کے در کھٹکھٹاتے رھے


Leave a Reply / Ap ka pegham

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: