Ibn e Insha Poetry Ghazal – Is Sham wo Rukhsat ka Sama


Ibn e Insha Poetry in Roman Urdu

Is Sham wo Rukhsat ka Sama Yaad rahe ga
Wo Shehar, wo koocha, Wo Makaa’n yad rahe ga

Wo Tees K ubhri thi idhar Yaad rahe gi
Wo dard k Utha tha Yaha Yaad rahe ga

Hum Shoq k Sholey ki Lapak Bhool bhi Jayein
Wo Shama Fasoorda Ka Dhuwa yad rahe ga

Haan Bazm-e-Shabana mein Hume Shoq Jo is din
Hum to Teri Janib -e- nigraa’n yaad rahe ga

Kuch meer k Abiyat thay , Kuch FAIZ k Misray
Ik dard ka tha Jin mein Biyaa’n Yaad rahe ga

Jaa’n Bakhash si is Barg -e- gull taar ki Tarawat
Wo Lamas Aazeez-o-Do Jahaa’n yaad rahe ga

Hum Bhool sake hain Na Tujhe Bhool sakein gey
Tu yaad rahe ga , Hume Haan Yaad rahe ga

Ibn e Insha Ghazal In Urdu TexT

اس شام وہ رخصت کا سماں یار رہے گا
وہ شہر ، وہ کوچہ ، وہ مکاں یاد رہے گا

وہ ٹیس کے ابھری تھی اِدھر یاد رہے گی
وہ درد کے اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا

ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں
وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا

ہاں بزم شبانہ میں ہمیں شوق جو اس دن
ہم تو تری جانب نگراں یاد رہے گا

کچھ میر کے ابیات تھے، کچھ فیض کے مصرے
اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا

جاں بخش سی اک برگ گل تر کی تراوت
وہ لمس عزیزِ دو جہاں یاد رہے گا

ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے
تو یاد رہے گا، ہمیں ہاں یاد رہے گا

ابن انشاء


10 تبصرے

  1. Anaya said,

    جون 6, 2012 at 7:41 صبح

    پیرِکامل

    زندگی میں ہم کبھی نہ کبھی اس مقام پر آجاتے ہیںجہاں سارے رشتے ختم ہوجاتے ہیں-وہاںصرف ہم ہوتے ہیں اور اللہ ہوتاہے-کوئی ماں باپ،کوئی بہن بھائی کوئی دوست نہیں ہوتا-پھر ہمیں پتا چلتاہے کہ ہمارے پاؤں کے نیچے نہ زمین ہے نہ ہمارے سر کے اوپر کوئی آسمان،بس صرف ایک اللہ ہے جو ہمیں اس خلامیں تھامے ہوئے ہے -پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہم زمین پر پڑی مٹی کے ڈھیر میں ایک زرے یا درخت پر لگے ہوئے ایک پتے سے زیادہ کی وقعت نہیں رکھتے-پھر ہمیں پتا چلتا ہے کہ ہمارے ہونے یانہ ہونے سے صرف ہمیں فرق پڑتا ہے -صرف ہمارا کردار ختم ہو جاتا ہے -کائنات میں کو ئی تبدیلی نہیں آتی کسی چیزپر کوئی اثر نہیں پڑتا

    عمیرا احمد کے پیرِکامل سے اقتباس

  2. Anaya said,

    جون 1, 2012 at 3:50 شام

    کلی میں باس میں پھُول پہ نکھار نہیں
    بہار میں بھی وہ ہنگامہِ بہار نہیں

    بدل گیا ہے مزاجِ سُخن وراں جب سے
    مزاجٍ گردشِ دوراں بھی ساز گار نہیں

    زمامِ قافلہ اب بھی ہے اُ ن کے ہاتھوں میں
    کہ اہلِ قافلہ کو جن پہ اعتبار نہیں

    کسی بھی لب پہ نہیں حرفِ احتجاج یہاں
    ستم کے دور میں کیا کوئی دلفگار نہیں

    اُنہیں بھی شک ہے ہمارے خلوصِ نیت پر
    ہمیں یقیں ہے کہ وہ بھی وفا شعار نہیں

  3. Anaya said,

    جون 1, 2012 at 3:48 شام

    کاٹ کر وہ روشنی کا سر چلے
    وقت کے سورج کو اندھا کر چلے

    جس گلی میں پتھروں کا ڈھیر ہے
    اُس گلی میں ہم برہنہ سر چلے

    پھنس گئے ہم رہبروں کے جال میں
    راہزنوں سے جب کبھی بچ کر چلے

    روند کر لاشوں کو آہن پوش لوگ
    رات کے اندھے کنوئیں میں بھر چلے

    جس کے گھر میں اٹھ رہے ہوں زلزلے
    کس بھروسے پر وہ اپنے گھر چلے

    بادشاہت جھوٹ کی ہو جس جگہ
    سانچ کا سکہ وہاں کیوں کرچلے

    اپنے گھر پر چھوڑ کر اپنے ضمیر
    دفتروں میں قوم نے نوکر چلے

    جھونپڑی والو! سویرا ہوگیا
    شیش محلوں پر کوئی پتھر چلے

    بخش حیراں ہے کہ سطح آب پر
    بے خودی کا گنبد بے در چلے

  4. Anaya said,

    مئی 31, 2012 at 7:22 صبح

    وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں
    جولگا کے آگ گئے تھے تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں

    میری ذندگی پہ نہ مسکرا مجھے ذندگی کاالم نہیں
    جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ بہار خزاں سے کم نہیں

    تیری یاد ایسی ہے باوفا پسِ مرگ بھی نہ ہوئی جدا
    تیری یاد میں ہم مٹ گئے تیری یاد دل سے مٹی نہیں

    وہی کارواں ،وہی راستے وہ ذندگی وہی مرحلے
    مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں

    نہ فنا میری نہ بقا میری مجھے اے شکیل نہ ڈھو نڈ یے
    میں کسی کا حسن خیال ہوں میرا کوئی و جود و عدم نہیں

  5. rubab said,

    اپریل 9, 2012 at 4:25 صبح

    amazing

  6. nazneen said,

    مارچ 8, 2012 at 3:16 صبح

    !Very nice

  7. مارچ 7, 2012 at 5:17 صبح

    Dear friend really nice Ghzal thanks for sharing ……..

  8. asim murtaza said,

    مارچ 5, 2012 at 2:51 شام

    aslam-u-alikum

    • Ali Haider said,

      مارچ 19, 2012 at 11:58 صبح

      very good frend it is nice

      mujhe yakin hai wo be-wafa roye ga ga mere liye ek din
      magar kiiss ke pheloo main roye ga ye khe nhi sakta
      (my )
      khuda tala ke khel bhi niraly hain ali
      ke
      main kissi or ka ho
      wo kisi or ka hai
      or main jiss ka hon
      wo mera nhi

      (my)

      I`m Ali Haider

      • Anaya said,

        مئی 31, 2012 at 7:25 صبح

        وہی آبلے ہیں وہی جلن کوئی سوزِ دل میں کمی نہیں
        جولگا کے آگ گئے تھے تم وہ لگی ہوئی ہے بجھی نہیں

        میری ذندگی پہ نہ مسکرا مجھے ذندگی کاالم نہیں
        جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ بہار خزاں سے کم نہیں

        تیری یاد ایسی ہے باوفا پسِ مرگ بھی نہ ہوئی جدا
        تیری یاد میں ہم مٹ گئے تیری یاد دل سے مٹی نہیں

        وہی کارواں ،وہی راستے وہ ذندگی وہی مرحلے
        مگر اپنے اپنے مقام پر کبھی ہم نہیں کبھی تم نہیں

        نہ فنا میری نہ بقا میری مجھے اے شکیل نہ ڈھو نڈ یے
        میں کسی کا حسن خیال ہوں میرا کوئی و جود و


Leave a Reply / Ap ka pegham

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: