کیوں میرا دل شاد نہیں – Faiz Ahmad Faiz


کیوں میرا دل شاد نہیں
کیوں خاموش رہا کرتا ہوں
چھوڑو میری رام کہانی
میں جیسا بھی ہوں اچھا ہوں

میرا دل غمگیں ہے تو کیا
غمگیں یہ دنیا ہے ساری
یہ دکھ تیرا ہے نہ میرا
ہم سب کی جاگیر ہے پیاری

تو گر میری بھی ہو جائے
دنیا کے غم یونہی رہیں گے
پاپ کے پھندے، ظلم کے بندھن
اپنے کہے سے کٹ نہ سکیں گے

غم ہر حالت میں مہلک ہے
اپنا ہو یا اور کسی کا
رونا دھونا، جی کو جلانا
یوں بھی ہمارا، یوں بھی ہمارا

کیوں نہ جہاں کا غم اپنا لیں
بعد میں سب تدبیریں سوچیں
بعد میں سکھ کے سپنے دیکھیں
سپنوں کی تعبیریں سوچیں
بے فکرے دھن دولت والے
یہ آخر کیوں خوش رہتے ہیں
ان کا سکھ آپس میں بانٹیں
یہ بھی آخر ہم جیسے ہیں

ہم نے مانا جنگ کڑی ہے
سر پھوڑیں گے ، خون بہے گا
خون میں غم بھی بہہ جائیں گے
ہم نہ رہیں ، غم بھی نہ رہے گا
(فیض)
Faiz Ahmad Faez


1 تبصرہ

  1. Shehal Zia said,

    اکتوبر 20, 2012 at 11:19 صبح

    good


Leave a Reply / Ap ka pegham

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: